موجودہ سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کی ترجیحات
نمونے کے طور پر یہ دو خبریں ملاحظہ کیجیے:
راولپنڈی انتظامیہ مریڑ چوک سے فیض آباد تک مری روڈ کی ترئین پر بارہ (12) کروڑ روپے خرچ کرے گی۔
ڈان، 7 اپریل 2025
لاہور کی عمارات کے اصل تاریخی حسن کو بحال کیا جائے گا۔ نواز شریف
جنگ، 28 فروری، 2025
یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ اس طرح کی سینکڑوں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی اہم اور بنیادی ذے داریاں پوری ہو چکی ہیں، جیسے کہ سرکاری سکولوں میں طلبہ و طالبات کے لیے اچھی عمارتوں، فرنیچر، پینے کے پانی کی فراہمی، وغیرہ، اسی لیے شہریوں کے ٹیکس کا یہ پیسہ تزئیں و آرائش پر لٹایا جا رہا ہے؟
ان اقدامات سے سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کی ترجیحات عیاں ہو کر سامنے آ جاتی ہیں۔
اگر سِول پاکستان پارٹی حکمران ہوتی تو اس کی ترجیحات شہریوں کی زندگی میں بہتری لانے کے اقدامت سے عبارت ہوتیں۔ جیسے کہ تزئین و آرائش پر خرچ ہونے والا یہ پیسہ سرکاری پرائمری سکولوں میں طلبہ و طالبات کے لیے بہترین سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کیا جاتا۔
بلکہ شہریوں سے مشورہ لیا جاتا کہ ترجیحات کا تعین کیسے کیا جائے۔
ڈاکٹر خلیل
چیف کنوینر
سِول پاکستان پارٹی