سول پاکستان پارٹی کا یقین صوبائی اور قومی اسمبلی کے ہر حلقے کے لیے نادرا کی مدد سے پرچی (لاٹری) نکالی جائے اور اس طرح ایم پی اے اور ایم این اے کا انتخاب ہونا چاہیے۔

سول پاکستان پارٹی کا یقین صوبائی اور قومی اسمبلی کے ہر حلقے کے لیے نادرا کی مدد سے پرچی (لاٹری) نکالی جائے اور اس طرح ایم پی اے اور ایم این اے کا انتخاب ہونا چاہیے۔
محترم وزیر اعظم شہباز شریف آپ جن لوگوں کو کمزور طبقہ کہہ رہے ہیں، وہ کمزور طبقہ نہیں۔ آپ نے ان سے ٹیکس نچوڑ نچوڑ کر انھیں کمزور طبقہ بنا دیا ہے۔ یہ کمزور طبقہ کسی بھی حکومت سے کچھ نہیں مانگتا۔ بلکہ یہ حکومتیں ان کی جیبوں سے نکالے گئے ٹیکس کی محتاج ہیں۔ ریاستی اشرافیہ ان کے ٹیکسوں پر پلتی ہے۔ جناب وزیر اعظم، کمزور طبقہ کہہ کر ہماری توہین نہ کریں۔ ہم خود محنت کرتے اور کماتے ہیں۔ کسی بھی حکومت سے کچھ نہیں لیتے۔ ڈاکٹر خلیل چیف کنوینر سِول پاکستان پارٹی — مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریف روزنامہ جنگ 30 مارچ، 26 https://jang.com.pk/news/1569339
پرچی (لاٹری) کے ذریعے چنا جائے تو ہر شخص ایم پی اے،ایم این اے بن سکتا ہے۔ سول پاکستان پارٹی اسی قسم کے انتخابی نظام کا نفاذ چاہتی ہے۔
سول پاکستان پارٹی عام انتخابات کے موجودہ نظام کو یکسر بدل دے گی۔ سیاسی پارٹیاں اپنے انجام کو پہنچیں گی۔ شہریوں کے نمائندوں کا انتخاب لاٹری کے ذریعے ہو گا۔ یوں پورے معاشرے میں سے ہر فرد باقی شہریوں کی نمائندگی کے لیے منتخب ہو سکے گا۔ اور یوں حقیقی جمہوریت وجود میں آ سکے گی۔
پٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لٹر مہنگے ۔۔۔ پاکستان کی کوئی بھی حکومت شہریوں کی نمائندہ حکومت نہیں ہوتی۔ ہر حکومت کا ہر ہر فیصلہ اس بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے۔ ڈاکٹر خلیل چینف کنوینر سِول پاکستان پارٹی
پٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لٹر مہنگے — پاکستان کی کوئی بھی حکومت شہریوں کی نمائندہ حکومت نہیں ہوتی۔ ہر حکومت کا ہر ہر فیصلہ اس بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے۔ ڈاکٹر خلیل چینف کنوینر سِول پاکستان پارٹی
سول پاکستان پارٹی کسی بھی قسم کی جنگ اور اسلحہ سازی کے حق میں نہیں۔ اور ہر حال میں جنگ کے امکانات میں کمی لانے والے اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔ کیونکہ ہر جنگ کا نتیجہ صرف اور صرف لوگوں کے جانی اور مالی نقصانات کی صورت میں نکلتا ہے۔
سِول پاکستان پارٹی اس وڈیو میں ایک کاروبار کرنے والے کے ساتھ خاتون افسر کے طرزِ عمل پر احتجاج کرتی ہے۔ سِول پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ ہر شہری کے آئینی حقوق اور عزتِ نفس کا لحاظ اور تحفظ حکومت کی اولین ذمے داری ہے۔ مگر یہ خاتون افسر نامعلوم کس زعم میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے افسرانِ بالا سے اس لہجے اور بدتمیزی سے گفتگو کریں گی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ حکومت پھل کا کاروبار کرنے والے ان جیسے شہریوں کے لیے نہیں۔ نہ حکومت، نہ عدالت، اور نہ وہ سرکاری ملازمین جو ان شہریوں کے ٹیکس کے پیسے پر پل رہے ہیں، وہ سب شہریوں کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ سِول پاکستان پارٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایک کاروبار کرنے والے کے ساتھ بدتمیزی اور ہتک آمیز رویے پر صوبائی حکومت کو ان خاتون افسر پر مقدمہ قائم کرنا اور […]