بالشت بھر کے اسلام آباد میں گورنینس ڈیڈ بلکہ منفی ہے۔ پورے ملک میں گورنینس کا جو حال ہے اس سانحے سے اس کا اندازہ لگا لیجیے۔ حکومت کو اٹھا کر ایران بھیج دینا چاہیے وہاں جا کر گورنینس بہتر بنائیں ۔۔۔

بالشت بھر کے اسلام آباد میں گورنینس ڈیڈ بلکہ منفی ہے۔ پورے ملک میں گورنینس کا جو حال ہے اس سانحے سے اس کا اندازہ لگا لیجیے۔ حکومت کو اٹھا کر ایران بھیج دینا چاہیے وہاں جا کر گورنینس بہتر بنائیں ۔۔۔
غیرممالک کے ساتھ سمندر سے گہری دوستوں اور ان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدوں سے پاکستان کے اندر گورنینس میں بہتری نہیں آ سکتی۔ سِول پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ اس قسم کی سیاست اور سفارت میں شہریوں کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ ان کے لیے یہ سب کچھ نمائش اور دکھاوا ہی رہے گا۔ گورنینس کی بات کرو : گورنینس پر توجہ دو
مجھ کو اپنے بینک کی کتاب دیجیے ملک کی تباہی کا حساب دیجیے منظر بھوپالی https://www.youtube.com/watch?v=dPp34k-Zx5c
داستان گو نہ بنیے۔ نئی داستان لکھنے والے بنیے! ریاست کی، حکومتوں کی کرپشن کی، نااہلی کی، اقربا پروری کی کہانیاں نہ سنائیے۔ آپ جہاں ہیں وہاں اسے بدلنے کے لیے کیا کر رہے ہیں وہ بتائیے۔ اگر آپ کچھ نہیں کر رہے تو جو لوگ اسے بدلنے کے لیے کچھ کر رہے ہیں ان کا ساتھ دیجیے۔ بات ختم! سِول پاکستان پارٹی چیف کنوینر: ڈاکٹرخلیل
ورلڈ بینک کو این ایف سی ایوارڈ پر مشورے دینے کا حق کہاں سے مل گیا؟ کیا ورلڈ بینک مرکزی حکومت کا ترجمان بن گیا ہے؟ این ایف سی ایوارڈ کا کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرن یہ فیصلے کرنے کا حق صرف شہریوں کے صوبائی نمائندوں کے پاس ہے۔
As announced in the budget, the government plans to spend approximately Rs. 19 trillion in the next financial year, 2026–27. That means, as Milton Friedman said, government spending is the true tax. So, dear citizens, be ready to pay Rs. 19 trillion in taxes. Dr Khalil Chief Convenor
عیدالاضحیٰ مبارک Eidul Azah Mubarak
Politics has become a black hole. Attempts to reform it are swallowed by the black hole. That’s why politicians need to be thrown out and politics retrieved back to the people through lottery-based elections and citizens assembly, ensuring every citizen has a chance to represent their fellow citizens.
سیاست ایک اندھا کنواں بن چکی ہے۔ اس کی اصلاح کی تمام کوششیں اندھے کنوئیں کی نذر ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں کو اُٹھا پھینکنا اور سیاست کو لوگوں کے ہاتھوں میں واپس لانا ضروری ہے، اس کا راستہ قرعہ اندازی پر مبنی انتخابات اور شہریوں پر مشتمل اسمبلیاں ہیں۔ یوں ہر شہری کو باقی شہریوں کی نمائندگی کا موقع میسر آ سکتا ہے۔