سندھ میں جزا و سزا کا کوئی تصور ہی نہیں؛ پولیس خود ملزمان کو رہا کروانے کا سبب بن رہی ہے۔ (روزنامہ جنگ 26 اگست) یہ حزب اختلاف کا معمول کا بیان نہیں، سپریم کورٹ کی ابزرویشن ہے۔ یہ ہے پیپلز پارٹی کا سندھ۔ یہ ہے کئی دہائیوں کی ڈیڈ گورنینس کا نتیجہ۔ لیکن پیپلز پارٹی کا اصل میدان بلکہ ہر سیاسی جماعت کا اصل میدان پاور پالیٹکس ہے۔ ان کے نزدیک شہری تو الیکشن کا چارہ ہیں، جنھیں یہ جماعتیں الیکشن میں حصہ لے کر چر لیں گی اور پھر پاور پالیٹکس کے اصطبل میں جا سوئیں گی۔ جبکہ گورنینس ہر جماعت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ سِول پاکستان پارٹی کی پہلی ترجیح: گُڈ گورنینس
