• info@CivilPakistanParty.org
  • Lahore, Pakistan
کیا پاکستان میں کم سن جانوں کی اسی طرح بے قدری ہوتی رہے گی؟

کیا پاکستان میں کم سن جانوں کی اسی طرح بے قدری ہوتی رہے گی؟

حال ہی میں دو خبریں کسی بھی خبر کی طرح آئیں اور گزر گئیں۔ اگرچہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ڈان 28 فروری: گلگت میں بسین کے علاقے میں تیز رفتار گاڑی نے تین کم سن بچیوں کو کچل دیا، ایک بچی شدید زخمی۔ بچیاں سکول جا رہی تھیں۔

آج (5 مارچ) کے دا نیوز انٹرنیشنل کی خبر۔ کورنگی، کراچی میں مزدا ٹرک نے اپنے گھر کے سامنے کھیلتی چار سالہ بچی کو نیچے دے دیا۔ بچی موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔

انسانی معاشرے اپنے بچوں کی قدر پھولوں کی طرح کرتے ہیں۔ بچوں کی سکول بس جہاں رکتی ہے، باقی ٹریفک کو وہاں سے ایک کلو میٹر پیچھے ٹھہرنا پڑتا ہے۔ یہ قانونی تقاضا ہے۔

مگر پاکستان کی سیاست اور طاقت کے کھیل نے ہر چیز کو پامال کر دیا ہے۔ یہاں ریاست، حکومت، قانون سب کے سامنے عام انسانی جان سے لے کر معصوم جان تک کسی کی کوئی قدر نہیں۔

یہ دل دہلا دینے والے دو سانحات ایسے ہیں کہ ریاست، حکومت، سیاست اور قانون کو رک جانا چاہیے۔ سوچنا چاہیے تھا۔ اور عہد کرنا چاہیے کہ اب ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ کسی سیاست دان، وزیر، مشیر، جج، اخلاقیات کے کسی ٹھیکیدار کا کوئی بیان تک نہیں آیا۔

جیسے کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔

سِول پاکستان پارٹی ریاست، حکومت، سیاست کو ان کے اصل کام پر لگانے کا عہد کرتی ہے۔ اور یہ اصل کام ہے شہریوں کی جان کی حفاظت۔ کسی امتیاز کے بغیر ہر شہری کی جان کی حفاظت۔

اور سِول پاکستان پارٹی شہریوں میں بھی اپنی ذمے داری کے احساس کو زندہ کرنے کا عزم رکھتی ہے، تاکہ وہ خود بھی ذمے دار بنیں۔ ہر چیز کا تقاضا حکومت یا قانون سے نہ کریں۔

سِول پاکستان پارٹی سمجھتی ہے: ذمے دار حکومت کا مطلب ہے ذمے دار شہری۔

مگر چونکہ کوئی بھی حکومت ذمے دار نہیں بنتی، لہٰذا، سِول پاکستان پارٹی اس اصول کو بھی سامنے رکھنا چاہتی ہے: ذمے دار شہری کا مطلب ہے ذمے دار حکومت۔

ڈاکٹر خلیل

چیف کنوینر

سِول پاکستان پارٹی

[5 مارچ، 2025]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *