• info@CivilPakistanParty.org
  • Lahore, Pakistan

جیب کتری جمہوریت از سفینہ سلیم

(یہ کالم  18جون، 2025 کو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ اسے نوائے وقت اور مصنفہ کے شکریے کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔)

کہنے کو ہم ایک جمہوری ریاست کے باسی ہیں لیکن حقیقت میں ہم ایک ایسی مخلوق میں ڈھل چکے ہیں جو صرف جرمانے بھرنے ٹیکس ادا کرنے اور افسرانِ بالا کی مسکراہٹ کا سبب بننے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔

یہاں جمہوریت کا مطلب ہے عوام کو قانون کا غلام بناؤ اور حکمرانوں کو قانون سے آزاد کرو۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو تو عوام کا چالان مگر سڑک ہی گڑھوں سے بھری ہو تو عوام کا ہی قصور شہری بغیر ہیلمٹ نکلے تو جرمانہ لیکن سڑک پر روشنی نہ ہو تو اندھیرے میں بھی ریاستی انصاف چمکتا رہتا ہے۔

یہ وہ ملک ہے جہاں شہری سے توقع ہے کہ وہ آئین کا احترام کرے جبکہ خود آئین کی کتابیں وزیروں کے ڈرائنگ روم کی زینت کیلئے بنی ہوئی ہیں۔ یہاں اگر کوئی شہری غلطی کرے تو اسے قانون یاد دلا دیا جاتا ہے اور اگر کوئی وزیر غلطی کرے تو اسے غلطی بھی کہنا توہینِ جمہوریت قرار پاتا ہے۔

پیارے وطن میں جمہوریت کا سورج ایسے چمکتا ہے جیسے کسی اندھیرے کمرے میں بلب ٹمٹما رہا ہو۔ حکمران طبقے کے منہ سے جب عوام کے حقوق کا ذکر نکلتا ہے تو دل کرتا ہے کہ پہلے اپنا بٹوہ سنبھال لو کیونکہ جب بھی حقوق کی بات ہوتی ہے تو ٹیکس نکلتا ہے وہ بھی عوام کی جیب سے۔

ہمارے یہاں جمہوریت دراصل جرمانہ کریسی اورٹیکس کریسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔

یعنی اگر آپ صبح اٹھ کر سانس لینے کے بعد سڑک پر نکل آئیں تو کم از کم دو سے تین قوانین کی خلاف ورزی تو ویسے ہی ہو جاتی ہے  اور ہر خلاف ورزی پر جمہوری ریاست کا ایک تازہ چالان حاضر ہو جاتا ہے۔

مگر دوسری طرف وہی سڑک جس پر شہری کو چلنے پر جرمانہ ہے اس پر گڑھوں کی حکومت ابلتے گٹروں کی بادشاہی اور کھدائی کے بعد ہمیشہ کے لیے یتیم پڑی زمین نظر آتی ہے۔ سگنل کام نہیں کرتا؟

کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ ریاست نے شہری کو جرمانہ ادا کرنے والا آلہ سمجھ لیا ہے نہ کہ وہ مخلوق جسے سہولت دینا حکومت کا فرض ہو۔

اب ذرا اس منافقت کے جشن میں شامل سیاستدانوں کو بھی دیکھیے۔ جن کے ذاتی بنگلوں کے سامنے سڑک ہمیشہ نئی ہوتی ہے روشنیوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں پولیس کی چیک پوسٹیں چاک و چوبند ہوتی ہیں۔ ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنیوالے بیچارے گرمی سردی دھوپ کی پرواکیے بغیر فرض نبھارہے ہیں اوران کے افسر رنگ رلیاں منارہے ہوتے ہیں۔

اور ادھر عوام کے اسپتال کی دیوار گر جائے تو اْسی ملبے میں مریض کو دفن کر کے فائل بند کر دی جاتی ہے۔ ایک طرف پروٹوکول کے قافلے دوسری طرف ایمبولینس کی سائرن گلا پھاڑتی رہ جائے پر حکمران کی لین بدستور محفوظ رہے گی۔

جمہوریت کے نام پر جاری یہ ڈراما دراصل اک طبقاتی مذاق بن چکا ہے۔ عوام کو روز اخلاقیات، آئین، اور قانون کا بھاشن دیا جاتا ہے۔ لیکن جنہیں قانون نافذ کرنا ہے وہی قانون کو اپنی مرضی سے موڑ لیتے ہیں۔ کسی وزیر کا بیٹا غلط سگنل پر بندہ مار دے تو وہ حادثہ کہلاتا ہے۔ لیکن کسی مزدور سے لائسنس نہ ہو تو وہ غیر قانونی مجرم بن جاتا ہے۔ یہ دہرا نظام ہی اصل بدعنوانی ہے جہاں قانون کا چہرہ وہ کتاب ہے جو عوام خریدتے ہیں اوراسکی رسید حکومت کی  جیب میں پڑی ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کو کبھی جرمانہ نہیں ہوتا

کبھی کسی افسر پر چالان نہیں کٹا کہ سگنل خراب چھوڑا یا کھدائی کے بعد سڑک نہیں بنوائی۔ان سے سوال ہی نہیں ہوتاکہ کروڑوں کا بجٹ لیاتھا مگرتعمیراتی و ترقیاتی کام مکمل کیوں نہ ہوا اس کے اس نامکمل کام پرجرمانہ کیوں نہیں لگتا۔

کبھی کسی محکمہ صفائی پر 5000 روپے نہیں لگے کہ کچرا کنڈی گند منڈی برسوں  سے ابل رہی ہے۔

جناب ریاست کے اہلکار عوام سے صرف ٹریفک قوانین کے جزوی عمل پر پورا پورا چالان وصول کر رہے ہیں

مگر خود مکمل بدانتظامی پر صفر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

جمہوریت کا نعرہ لگانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے عوامی ٹیکس کو سرکاری عیاشی فنڈ میں بدل دیا ہے۔

باہر سے قرضے، اندر سے چالان اور اوپر سے پٹرول، بجلی، گیس کے نرخ۔

یہ ہے وطنِ عزیز کی حقیقی جمہوریت کا خوبصورت بلکہ خوفصورت چہرہ۔

اور جب کوئی نوجوان اس چہرے پر سوال اٹھاتا ہے تو جواب ملتا ہے

یہ سب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے گویا عوام جمہوریت کو ووٹ دے کر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو چکے ہیں۔

بلکہ ووٹ انہوں نے دیاہی نہیں خود ہی ان کے نام کا ووٹ کا جمہوریت کے باکس میں ڈال دیاجاتاہے۔

اتنی ہی شدت سے جس جمہوریت کے نام پر عوام کا خون چوسا جا رہا ہے اسی شدت سے عوام سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ کیونکہ یہاں تو جمہوریت گاہے گاہے ایک ایسی ملازمت کا اعلان لگتی ہے جس میں عوام کو بغیر تنخواہ کے صرف قربانی دینا ہوتی ہے  اور حکمرانوں کو بغیر کارکردگی کے پوری مراعات۔

عوام پر قوانین لاگو ہیں۔اورحکومت پر صرف تقاریر۔

عوام ٹیکس دے، جرمانہ دے، دھکے کھائے، چپ رہے۔

جبکہ ریاستی اشرافیہ صرف پروٹوکول لے، کمیشن لے، اور ٹی وی پر آکر فرمائے

جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے!

تو بس اے پاکستانی بھائیو بہنو میرے بزرگواور مستقبل کے معمارو

اب اگر غلطی سے بھی تم نے رات کو دوکان سے انڈے لیتے ہوئے ہیلمٹ نہ پہنا

یا بائیک پر دو بچوں کے ساتھ نانی کے گھر نکل گئے

تو سمجھ لو تم ریاست کے باغی ہو

اور باغی کو چالان قسطوں میں جرمانہ اور ساری زندگی بھرناپڑیگا۔

کاش جمہوریت صرف ووٹ دینے کا نہیں حساب لینے کا بھی نام ہوتی۔

کاش ٹیکس کے ساتھ احتساب بھی عوام کا حق سمجھا جاتا۔

کاش ہر چالان سے پہلے حکمرانوں سے ان کے وعدوں کا چالان مانگا جاتا۔

مگر افسوس!

یہاں جمہوریت فقط انتخابی پوسٹر بن چکی ہے جس پر عوام کی تصویر ہو اور فائدہ صرف اشرافیہ کو ہو۔

کاش شہری صرف چالان بھرنے والے نہ رہیں بلکہ سوال اٹھانے والے بنیں۔ ریاست کو یاد رکھناچاہئے کہ جس سسٹم کی بنیاد عوام کے ٹیکس پر ہے اْس میں عوام صرف خریدار نہیں مالک بھی ہیں۔ اگر ہم نے اس جمہوری جرمانہ کو بے نقاب نہ کیا تو اگلا چالان شاید ہماری سانسوں پر بھی لگ جائے۔

کیاخیال ہے؟

لا دعوا: سِول پاکستان پارٹی کا مصنفہ کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

https://www.nawaiwaqt.com.pk/18-Jun-2025/1903725

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *