
نئے پارلیمانی محلات بننا ضروری ہیں، یا سکولوں کی خستہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی
نئے پارلیمانی محلات بننا ضروری ہیں یا سکولوں کی خستہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی
ڈان اخبار کے مطابق اسلام آباد میں نئی پارلیمانی لاجز کی تعمیر جاری ہے، جن پر اخراجات کا اندازہ 8.62 ارب روپے ہے۔ ان میں 104 اضافی فیملی سوئٹس، ٹک شاپ، بیوٹی پارلر، باربر شاپ، ٹیلر شاپ، لانڈری شاپ، کیبل ٹی وی آفس، کیفے ٹیریا، جِم کی سہولتیں اور 815 پارکنگ کی جگہیں شامل ہیں۔
نئی پارلیمانی لاجز کے منصوبے کی ذمے داری کسی ایک حکومت پر نہیں آتی، بلکہ یہ ہر قسم کی حکومتوں کے ہاتھوں سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے۔ خواہ یہ سیاسی حکومت ہو، یا عسکری یا مخلوط حکومت، اس سے ہر طرح کی حکومتوں کی ترجیحات واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہیں۔ یعنی یہ کہ یہ لوگوں کے ٹیکسوں کو لوگوں پر خرچ نہیں کرنا چاہتیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں لڑکیوں اور لڑکوں کے سکولوں کی تمام خستہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی کا
کام مکمل ہو چکا ہے۔
ڈاکٹر خلیل
چیف کنوینر
سِول پاکستان پارٹی