سڑکیں ہیں یا قتل گاہیں؟
از رضا علی عابدی
روزنامہ جنگ
ابھی کچھ روز ہوئے، سندھ کے شہر خیرپور کے قریب ایک تیز رفتار وین نے قابو سے باہر ہوکر اسکول کو جاتے ہوئے کمسن بچوں کو روند ڈالا۔تیار ہو ،یونی فارم پہن کر جو بچّے گھر سے نکلے تھے، تھوڑی ہی دیر بعد خون میں نہائے ہوئے گھر واپس آگئے،پھر کبھی اسکول نہ جانے کے لئے۔ بچے اپنی جان سے گئے، قصہ ختم ہوا ، دنیا اپنے کاموں میں مصروف رہی۔ کسی کو خبر بھی نہیں کہ ان دیہاتی گھرانوں میں کیسی قیامت گزر گئی۔میں انگلستان میں آباد ہوں ۔ یہاں ایسا کوئی واقعہ ہوتا تو اخباروں میں چیختی چنگھاڑتی سرخیاں لگتیں، ریڈیو اور خاص طور پر ٹیلی وژن پر مباحثے شروع ہوجاتے اور سرکاری وزیر بظاہر آنسو بہاتے ہوئے اپنی صفائیاں پیش کر رہے ہوتے، اداریے لکھے جاتے اور چھان بین کر کے اصل حقیقت جاننے کے لئے کمیٹیاں قائم کی جاتیں۔ وہاں تو کسی کے کان پر کچھ بھی نہیں رینگا ، ایک خبر نامے میں یہ جان لیوا خبر ایک جملے میں نمٹادی گئی اور وہ جملہ بھی اتنی تیزی سے پڑھا گیا کہ بچوں کو روندنے والی وین بھی اتنی تیز رفتار نہ ہو گی۔
پورا کالم پڑھیے: