• info@CivilPakistanParty.org
  • Lahore, Pakistan
سول پاکستان پارٹی سوگواران اسلام آباد سانحہ کے غم میں برابر کی شریک ہے

سول پاکستان پارٹی سوگواران اسلام آباد سانحہ کے غم میں برابر کی شریک ہے

دہشت گردی کی جنگ میں کہیں نہ کہیں غفلت ہو رہی ہے۔ وگرنہ صدر مقام اسلام آباد میں اتنی بڑی تعداد میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان کیسے ہو سکتا ہے! سول پاکستان پارٹی سوگواران اسلام آباد سانحہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اور حکومت سے تمام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتی ہے۔

نیا سال 2026 مبارک

نیا سال 2026 مبارک

امید ہے کہ نیا سال 2026 پاکستان کے شہریوں کے لیے سیاسی و معاشی استحکام کا سال ثابت ہو گا! اور خوشحالی کے حصول کے لیے ہر شہری کی دیانت دارانہ کوششیں بارآور ثابت ہوں گی! سِول پاکستان پارٹی چیف کنوینر: ڈاکڑ خلیل    

شہریوں کی جیبوں پر بوجھ بنا ایک ریاستی کاروبار بالآخر اپنے انجام کو پہنچا

شہریوں کی جیبوں پر بوجھ بنا ایک ریاستی کاروبار بالآخر اپنے انجام کو پہنچا

شہریوں کی جیبوں پر بوجھ بنا ایک ریاستی کاروبار بالآخر ٹھکانے لگا۔ تمام سیاسی پارٹیاں، اور دراصل، ریاستی اشرافیہ پی آئی اے کی تباہی کی ذمے دار ہے۔ سِول پاکستان پارٹی عارف حبیب کنسورشیم کی جرآت کو داد دیتی ہے کہ انھوں نے ایک لُٹے پُٹے ریاستی کاروبار کو خریدنے اور چلانے کا حوصلہ کیا۔ انھیں اس سعی میں کامیابی حاصل ہو!

شہریوں کو سِول پاکستان پارٹی کی طرف سے بسنت کے انعقاد کی خوش خبری مبارک ہو

شہریوں کو سِول پاکستان پارٹی کی طرف سے بسنت کے انعقاد کی خوش خبری مبارک ہو

بسنت پر پابندی لگانا اصلاً غلط فیصلہ تھا۔ پابندی نقصان دہ ڈور پر لگنی چاہیے تھی۔  بسنت منانے جانے کے لیے قواعد و ضوابط پہلے بھی بن سکتے تھے۔ دیر آید درست آید۔ حکومت کو بات دیر سے سمجھ آئی مگر آ گئی۔ لیکن بسنت پر پابندی کے دوران جن شہریوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ارتکاب ہوا، حکومت کو اس کے ازالے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ شہریوں کو سِول پاکستان پارٹی کی طرف سے بسنت کے انعقاد کی خوش خبری مبارک ہو

پنجاب اور سندھ میں ٹریفک قوانین کی ڈکٹیٹرشپ

پنجاب اور سندھ میں ٹریفک قوانین کی ڈکٹیٹرشپ

ٹریفک قوانین سمیت تمام قوانین شہریوں کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں۔ شہریوں کو سزا و انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔   مگر پنجاب اور سندھ میں سیاسی و قانونی پارسائیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ٹریفک قوانین کے نفاذ کے نام پر شہریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور ان کی جیبوں میں سے جرمانوں کے نام پر کروڑوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں قانون کا نفاذ شہریوں کی سہولت کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ سول پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ دونوں صوبوں میں قانون کی حاکمیت نہیں، بلکہ قانون کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔