• info@CivilPakistanParty.org
  • Lahore, Pakistan
شہریوں کو سِول پاکستان پارٹی کی طرف سے بسنت کے انعقاد کی خوش خبری مبارک ہو

شہریوں کو سِول پاکستان پارٹی کی طرف سے بسنت کے انعقاد کی خوش خبری مبارک ہو

بسنت پر پابندی لگانا اصلاً غلط فیصلہ تھا۔ پابندی نقصان دہ ڈور پر لگنی چاہیے تھی۔  بسنت منانے جانے کے لیے قواعد و ضوابط پہلے بھی بن سکتے تھے۔ دیر آید درست آید۔ حکومت کو بات دیر سے سمجھ آئی مگر آ گئی۔ لیکن بسنت پر پابندی کے دوران جن شہریوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ارتکاب ہوا، حکومت کو اس کے ازالے کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ شہریوں کو سِول پاکستان پارٹی کی طرف سے بسنت کے انعقاد کی خوش خبری مبارک ہو

پنجاب اور سندھ میں ٹریفک قوانین کی ڈکٹیٹرشپ

پنجاب اور سندھ میں ٹریفک قوانین کی ڈکٹیٹرشپ

ٹریفک قوانین سمیت تمام قوانین شہریوں کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں۔ شہریوں کو سزا و انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے نہیں۔   مگر پنجاب اور سندھ میں سیاسی و قانونی پارسائیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ ٹریفک قوانین کے نفاذ کے نام پر شہریوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور ان کی جیبوں میں سے جرمانوں کے نام پر کروڑوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں قانون کا نفاذ شہریوں کی سہولت کے لیے نہیں کیا جا رہا۔ سول پاکستان پارٹی سمجھتی ہے کہ دونوں صوبوں میں قانون کی حاکمیت نہیں، بلکہ قانون کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہے۔

غیرملکی دورے اور گورنینس

غیرملکی دورے اور گورنینس

غیر ملکی دوروں سے گورنینس میں کبھی کوئی بہتری نہیں آئی۔               ہاں غیرملکی دورے بری گورنینس کا سبب بھی ہیں اور نتیجہ بھی۔ نواز شریف نے 150 کے قریب غیرملکی دورے کیے گورنینس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

پارلیمانی جمہوریت یا پارلیمانی آمریت

پارلیمانی جمہوریت یا پارلیمانی آمریت

گیارہویں این ایف سی اایوارڈ میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ آئین میں کیا ترامیم کی جانے والی ہیں؟ آیا ان مجوزہ ترامیم کو شہریوں کے سامنے رکھا گیا ہے؟ کیوں رکھا نہیں گیا؟ کیا منتخب نمائندوں کو اختیارِ مطلق حاصل ہو گیا ہے؟ یہ پارلیمانی جمہوریت نہیں۔ بلکہ پارلیمانی آمریت ہے۔

ٹیکس اور ایکسپورٹ

ٹیکس اور ایکسپورٹ

جب ٹیکسوں کی بھوکی ریاستی اشرافیہ کچھ پروڈیوس ہونے دے گی تو پھر ایکسپورٹ بڑھیں گی نا کم سے کم ٹیکس سِول پاکستان پارٹی کا وعدہ

پُرتشدد، غیراخلاقی، اور قانون دشمن احتجاج کا راستہ – تباہی کا راستہ

پُرتشدد، غیراخلاقی، اور قانون دشمن احتجاج کا راستہ – تباہی کا راستہ

سِول پاکستان پارٹی شہریوں کی طرف سے بھی اور حکومت کی طرف سے بھی قانون کی عملداری پر یقین رکھتی ہے۔ خواہ یہ غلط قوانین ہی کیوں نہ ہوں۔ جبکہ سِول پاکستان پارٹی یہ بھی سمجھتی ہے کہ کسی بھی قسم کے احتجاج کے لیے صرف اور صرف پُرامن، اخلاقی اور قانونی جد و جہد کا راستہ ہی اپنایا جانا چاہیے۔ پُرتشدد، غیراخلاقی، اور قانون دشمن راستہ تباہی کا راستہ ہے۔

نئے پارلیمانی محلات بننا ضروری ہیں، یا سکولوں کی خستہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی

نئے پارلیمانی محلات بننا ضروری ہیں، یا سکولوں کی خستہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی

نئے پارلیمانی محلات بننا ضروری ہیں یا سکولوں کی خستہ عمارتوں کی مرمت اور بحالی ڈان اخبار کے مطابق اسلام آباد میں نئی پارلیمانی لاجز کی تعمیر جاری ہے، جن پر اخراجات کا اندازہ 8.62 ارب روپے ہے۔ ان میں 104 اضافی فیملی سوئٹس، ٹک شاپ، بیوٹی پارلر، باربر شاپ، ٹیلر شاپ، لانڈری شاپ، کیبل ٹی وی آفس، کیفے ٹیریا، جِم کی سہولتیں اور 815 پارکنگ کی جگہیں شامل ہیں۔ نئی پارلیمانی لاجز کے منصوبے کی ذمے داری کسی ایک حکومت پر نہیں آتی، بلکہ یہ ہر قسم کی حکومتوں کے ہاتھوں سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہے۔ خواہ یہ سیاسی حکومت ہو، یا عسکری یا مخلوط حکومت، اس سے ہر طرح کی حکومتوں کی ترجیحات واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہیں۔ یعنی یہ کہ یہ لوگوں کے ٹیکسوں کو لوگوں پر خرچ نہیں کرنا چاہتیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں لڑکیوں اور لڑکوں کے سکولوں […]

پاکستان کا بیشتر میڈیا سیاسی جماعتوں کا دُم چھلا ہے۔

پاکستان کا بیشتر میڈیا سیاسی جماعتوں کا دُم چھلا ہے۔

پاکستان کا بیشتر میڈیا سیاسی جماعتوں کا دُم چھلا ہے۔ سیاسی پارٹیاں جو کچھ کرتی ہیں، اسے اس کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ وگرنہ ہر گلی اور ہر سڑک پر سرکار کے پیدا کیے ہوئے مسائل بکھرے پڑے ہیں۔ جیسے اب میڈیا اور صحافی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لڑائی

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لڑائی

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی لڑائی دکھاوا ہے یا تماشا، اس سے قطع نظر دونوں کی گورنینس میں تھوڑا ہی فرق ہے، کیونکہ دونوں کی توجہ گورنینس پر نہیں، ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنے پر ہے۔