• info@CivilPakistanParty.org
  • Lahore, Pakistan
آزاد کشمیر میں کچھ برس قبل بھی ایسے ہی پرتشدد حالات پیدا ہوئے تھے۔

آزاد کشمیر میں کچھ برس قبل بھی ایسے ہی پرتشدد حالات پیدا ہوئے تھے۔

آزاد کشمیر میں کچھ برس قبل بھی ایسے ہی پرتشدد حالات پیدا ہوئے تھے۔ اب پھر یہی کچھ ہوا۔ جذبات بھڑکنے کے پیچھے جو رنجشیں اور ناانصافیاں سلگ رہی ہوتی ہیں، حکومت آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت ان پر بروقت توجہ نہیں دیتی۔ دونوں صورتوں میں طرزِ حکمرانی کا یہ شاہانہ انداز کب تک برقرار رہ سکتا ہے، حکومت کو بروقت سوچنا اورعمل کرنا چاہیے۔ اپنا طرزِ حکمرانی بدلنا چاہیے۔

جیب کتری جمہوریت از سفینہ سلیم

(یہ کالم  18جون، 2025 کو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ اسے نوائے وقت اور مصنفہ کے شکریے کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔) کہنے کو ہم ایک جمہوری ریاست کے باسی ہیں لیکن حقیقت میں ہم ایک ایسی مخلوق میں ڈھل چکے ہیں جو صرف جرمانے بھرنے ٹیکس ادا کرنے اور افسرانِ بالا کی مسکراہٹ کا سبب بننے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ یہاں جمہوریت کا مطلب ہے عوام کو قانون کا غلام بناؤ اور حکمرانوں کو قانون سے آزاد کرو۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو تو عوام کا چالان مگر سڑک ہی گڑھوں سے بھری ہو تو عوام کا ہی قصور شہری بغیر ہیلمٹ نکلے تو جرمانہ لیکن سڑک پر روشنی نہ ہو تو اندھیرے میں بھی ریاستی انصاف چمکتا رہتا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں شہری سے توقع ہے کہ وہ آئین کا احترام کرے جبکہ خود آئین کی کتابیں وزیروں کے ڈرائنگ […]

موجودہ سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کی ترجیحات

نمونے کے طور پر یہ دو خبریں ملاحظہ کیجیے: راولپنڈی انتظامیہ مریڑ چوک سے فیض آباد تک مری روڈ کی ترئین پر بارہ (12) کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ ڈان، 7 اپریل 2025 لاہور کی عمارات کے اصل تاریخی حسن کو بحال کیا جائے گا۔ نواز شریف جنگ، 28 فروری، 2025 یہ صرف دو مثالیں ہیں۔ اس طرح کی سینکڑوں ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی اہم اور بنیادی ذے داریاں پوری ہو چکی ہیں، جیسے کہ سرکاری سکولوں میں طلبہ و طالبات کے لیے اچھی عمارتوں، فرنیچر، پینے کے پانی کی فراہمی، وغیرہ، اسی لیے شہریوں کے ٹیکس کا یہ پیسہ تزئیں و آرائش پر لٹایا جا رہا ہے؟ ان اقدامات سے سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کی ترجیحات عیاں ہو کر سامنے آ جاتی ہیں۔ اگر سِول پاکستان پارٹی حکمران ہوتی تو اس کی ترجیحات شہریوں کی زندگی میں بہتری لانے کے اقدامت […]